مختصر شرح زیارت جامعہ کبیرہ

مختصر شرح زیارت جامعہ کبیرہ

مختصر شرح زیارت جامعہ کبیرہ

Publish number :

چاپ اوّل

Publication year :

2018

Publish location :

سندھ پاکستان

Number of volumes :

1

(1 پسندیدگی)

QRCode

(1 پسندیدگی)

مختصر شرح زیارت جامعہ کبیرہ

مختصر شرح زیارت جامعہ کبیرہ زیارت جامعہ کبیرہ کے بلند اور گہرے معارف کو سمجھنے کی کوشش ہے۔ زیارت جامعہ کبیرہ امام ہادی (علیہ السلام) سے منقول ہے۔ اس میں ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) کے مقام، فضائل اور ولایت کے مختلف پہلو بیان ہوئے ہیں۔ یہ کتاب زیارت کے مضامین کو مختصر اور قابلِ فہم انداز میں سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

کتاب کے بارے میں

زیارت جامعہ کبیرہ میں توحید، امامت، ولایت، معرفت امام اور اہل بیت (علیہم السلام) کے مقام جیسے اہم موضوعات بیان ہوئے ہیں۔ اس زیارت کو شیخ صدوق نے اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ بعد میں شیخ طوسی نے بھی اسے نقل کیا۔ آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی کی یہ مختصر شرح زیارت کے اہم فقروں اور مفاہیم کو آسان انداز میں سمجھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ قاری زیارت کے الفاظ کے ساتھ اس کے اعتقادی اور تربیتی پیغام پر بھی غور کر سکتا ہے۔

اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں

اس کتاب کے ذریعے ہمیں اہل بیت (علیہم السلام) کی معرفت اور ولایت کے مفہوم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہم زیارت جامعہ کبیرہ میں بیان ہونے والے اہم اعتقادی مضامین سے واقف ہوتے ہیں۔ توحید، امامت، ولایت، علم، فضیلت اور ہدایت جیسے موضوعات پر غور کا موقع ملتا ہے۔ کتاب زیارت پڑھنے کے ساتھ اس کے مفاہیم کو سمجھنے اور اپنی زندگی میں ان سے رہنمائی لینے کی طرف بھی متوجہ کرتی ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں

آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی معاصر شیعہ عالم، فقیہ، مفسر اور مصنف ہیں۔ انہوں نے فقہ، تفسیر، عقائد، اخلاق اور اسلامی معارف کے مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تحریر کی ہیں۔ ان کی تحریروں میں پیچیدہ دینی مسائل کو عام قارئین کے لیے قابلِ فہم انداز میں پیش کرنے پر خاص توجہ ملتی ہے۔ زیارت اور معارف اہل بیت (علیہم السلام) کے موضوعات بھی ان کی علمی کاوشوں میں شامل ہیں۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے

یہ کتاب زیارت جامعہ کبیرہ کے معارف کو سمجھنے کے خواہش مند افراد کے لیے مفید ہے۔ طلبہ، دینی علوم کے قارئین اور اہل بیت (علیہم السلام) کی معرفت میں دلچسپی رکھنے والے افراد اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ جو افراد زیارت جامعہ کبیرہ کو صرف پڑھنے کے بجائے اس کے مفاہیم کو سمجھنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ کتاب خاص طور پر مناسب ہے۔