امام خمینی صیہونزم کے مقابلے میں (تقریریں)

امام خمینی صیہونزم کے مقابلے میں (تقریریں)

امام خمینی صیہونزم کے مقابلے میں (تقریریں)

Number of volumes :

1

Publish number :

چاپ اوّل

Publication year :

1989

Publish location :

قم، ایران

(0 پسندیدگی)

QRCode

(0 پسندیدگی)

امام خمینی صیہونزم کے مقابلے میں (تقریریں)

امام خمینی صیہونزم کے مقابلے میں (تقریریں) امام خمینی (رحمہ اللہ) کے سیاسی اور فکری نظریات پر مبنی کتاب ہے۔ اس میں صیہونزم، فلسطین کے مسئلے اور مسلمانوں کی ذمہ داریوں کے بارے میں ان کے خیالات پیش کیے گئے ہیں۔ یہ کتاب مسئلہ فلسطین کے حوالے سے امام خمینی کے مؤقف کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

کتاب کے بارے میں

اس کتاب میں امام خمینی کی ان تقریروں کو یکجا کیا گیا ہے جن میں صیہونزم اور فلسطین کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے۔ ان تقریروں میں فلسطینی عوام کے حقوق اور بیت المقدس کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ امام خمینی نے فلسطین کے مسئلے کو عالم اسلام سے متعلق ایک اہم مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کے اتحاد اور مظلوموں کی حمایت پر بھی تاکید کی۔ کتاب کا اردو ترجمہ روشن علی نجفی نے کیا ہے۔ اس کے ذریعے قارئین امام خمینی کی تقریروں اور ان کے سیاسی مؤقف سے واقف ہو سکتے ہیں۔

اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں

اس کتاب کے مطالعے سے امام خمینی کے نظریات اور مسئلہ فلسطین کے بارے میں ان کے مؤقف کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ قارئین صیہونزم کے بارے میں ان کی تنقید سے واقف ہوتے ہیں۔ وہ فلسطینی عوام کے حقوق اور بیت المقدس کی اہمیت کو بھی سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، کتاب مسلمانوں کے اتحاد اور مظلوموں کی حمایت کے موضوعات پر غور کرنے کا موقع دیتی ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں

امام خمینی (1902ء–1989ء) شیعہ عالم دین، فقیہ اور اسلامی انقلاب ایران کے رہنما تھے۔ ان کا اصل نام سید روح اللہ موسوی خمینی تھا۔ انہوں نے اسلامی فقہ، فلسفہ اور سیاست کے میدان میں علمی و فکری خدمات انجام دیں۔ 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد وہ ایران کے سیاسی نظام کے مرکزی رہنما بنے۔ فلسطین کی حمایت اور صیہونزم کی مخالفت ان کے سیاسی مؤقف کے اہم موضوعات میں شامل تھے۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ روشن علی نجفی نے کیا ہے۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے

یہ کتاب امام خمینی کے افکار میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے مفید ہے۔ مسئلہ فلسطین اور صیہونزم کی تاریخ کا مطالعہ کرنے والے طلبہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اسلامی سیاست، مشرقِ وسطیٰ اور فلسطینی جدوجہد پر تحقیق کرنے والوں کے لیے بھی یہ کتاب قابلِ مطالعہ ہے۔