شناخت استکبار

شناخت استکبار

شناخت استکبار

Number of volumes :

1

Publish number :

چاپ دوم

Publication year :

1992

Publish location :

کراچی پاکستان

(0 پسندیدگی)

QRCode

(0 پسندیدگی)

شناخت استکبار

«شناخت استکبار» جواد منصوری کی ایک فکری اور سیاسی کتاب ہے۔ اس کتاب میں استکبار کے مفہوم اور اس کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب کا اصل عنوان «شناخت استکبار جهانی» بھی درج کیا گیا ہے۔ ایک معروف اشاعت ۱۹۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ اسے مؤسسه چاپ و انتشارات آستان قدس رضوی نے شائع کیا۔

کتاب کے بارے میں

کتاب میں استکبار اور عالمی طاقت کے نظام کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اس موضوع کو تاریخی اور سیاسی زاویے سے سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ مصنف استکباری نظام کی خصوصیات اور اس کے اثرات پر گفتگو کرتے ہیں۔ کتاب میں عالمی تعلقات اور مختلف طاقتوں کے کردار پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ اس کتاب کا موضوع جدید تاریخ، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جواد منصوری کی دوسری کتابوں میں بھی سیاسی اور تاریخی موضوعات نمایاں ہیں۔

اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں

اس کتاب سے ہمیں استکبار کے مفہوم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ عالمی طاقتوں کے کردار پر بھی غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔ قاری عالمی سیاست کے بعض اہم تصورات سے واقف ہو سکتا ہے۔ استعمار، سیاسی اثر و رسوخ اور عالمی طاقت جیسے موضوعات کو سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ کتاب ہمیں معاصر عالمی مسائل کو تاریخی پس منظر میں دیکھنے کا موقع دیتی ہے۔ اس سے سیاسی اور تاریخی مطالعے کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں

جواد منصوری ایرانی مصنف، محقق اور سیاسی تاریخ کے موضوعات پر لکھنے والے اہل قلم ہیں۔ ان کی متعدد کتابیں تاریخ، سیاست اور بین الاقوامی تعلقات سے متعلق ہیں۔ ان کی تصانیف میں «استعمار فرانو»، «آمریکا و خاورمیانه» اور «نظری به سیاست خارجی جمهوری اسلامی ایران» شامل ہیں۔ «شناخت استکبار جهانی» بھی ان کی معروف تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کی مختلف اشاعتیں مختلف برسوں میں سامنے آئی ہیں۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے

یہ کتاب عالمی سیاست اور معاصر تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے مناسب ہے۔ طلبہ اور محققین سیاسی تاریخ کے مطالعے کے لیے اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کا مطالعہ کرنے والوں کے لیے بھی یہ کتاب مفید ہے۔ جو قارئین استکبار، استعمار اور عالمی طاقتوں کے کردار کو سمجھنا چاہتے ہیں، وہ اس کتاب سے استفادہ کر سکتے ہیں۔