أللُّهوف عَلى قَتْلَى الطُّفوف یا ألمَلْهوف عَلی قَتْلَی الطُّفوف (مقتل لہوف)

أللُّهوف عَلى قَتْلَى الطُّفوف یا ألمَلْهوف عَلی قَتْلَی الطُّفوف (مقتل لہوف)

أللُّهوف عَلى قَتْلَى الطُّفوف یا ألمَلْهوف عَلی قَتْلَی الطُّفوف (مقتل لہوف)

Publish number :

چاپ سوم

Publication year :

2008

Publish location :

اسلام آباد پاکستان

Number of volumes :

1

(0 پسندیدگی)

QRCode

(0 پسندیدگی)

أللُّهوف عَلى قَتْلَى الطُّفوف یا ألمَلْهوف عَلی قَتْلَی الطُّفوف (مقتل لہوف)

کتاب اللہوف علی قتلی الطفوف، جسے ملہوف علی قتلی الطفوف بھی کہا جاتا ہے، واقعۂ کربلا کے بارے میں ایک معروف تاریخی اور مقتل کی کتاب ہے۔ اس کے مصنف سید رضی الدین علی بن موسیٰ ابن طاووس ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں امام حسین (علیہ السلام) اور آپ کے اہل بیت و اصحاب کی شہادت کے واقعات بیان کیے ہیں۔ یہ کتاب واقعۂ عاشورا کی یاد تازہ کرتی ہے اور اہل بیت (علیہم السلام) کی مظلومیت کو سامنے لاتی ہے۔

کتاب کے بارے میں

کتاب اللہوف علی قتلی الطفوف میں واقعۂ کربلا کو تین بنیادی حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں امام حسین (علیہ السلام) کی مدینہ سے روانگی اور مکہ میں قیام کے واقعات ہیں۔ دوسرے حصے میں کربلا پہنچنے، میدانِ جنگ اور شہادت کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ تیسرے حصے میں شہادت کے بعد اہل بیت (علیہم السلام) کی اسیری اور کوفہ و شام کے سفر کا ذکر ہے۔ مصنف نے واقعات کو مختصر اور مؤثر انداز میں پیش کیا ہے۔ کتاب میں امام حسین (علیہ السلام) کے خطبات، مکالمات اور اہل بیت و اصحاب کی قربانیوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کتاب مقتل نگاری کی اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔

اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں

اس کتاب کے مطالعے سے ہمیں امام حسین (علیہ السلام) کے قیام کے حالات اور مقاصد سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہم کربلا میں آپ کے اہل بیت اور وفادار اصحاب کی قربانیوں سے واقف ہوتے ہیں۔ کتاب ہمیں صبر، وفاداری، شجاعت اور حق پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہے۔ اس میں اہل بیت (علیہم السلام) کی اسیری اور مصائب بھی بیان ہوئے ہیں۔ یہ واقعات ہمیں ظلم کے مقابلے میں حق کا ساتھ دینے کی اہمیت سمجھاتے ہیں۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں

سید رضی الدین علی بن موسیٰ ابن طاووس، معروف بہ سید ابن طاووس، ساتویں صدی ہجری کے مشہور شیعہ عالم، محدث اور مصنف تھے۔ آپ ۱۵ محرم ۵۸۹ھ کو حِلّہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک علمی خاندان سے تھا۔ آپ کے والد موسیٰ بن جعفر اور والدہ کا تعلق بھی اہل علم کے خاندانوں سے تھا۔ آپ نے حدیث، فقہ، دعا اور اخلاق کے موضوعات پر متعدد کتابیں لکھیں۔ آپ کی معروف تصانیف میں اللہوف علی قتلی الطفوف، اقبال الأعمال، جمال الأسبوع، فلاح السائل اور مصباح الزائر شامل ہیں۔ آپ کی تحریروں میں اہل بیت (علیہم السلام) سے محبت اور روحانی تربیت کے موضوعات نمایاں ہیں۔ سید ابن طاووس ۵ ربیع الآخر ۶۶۴ھ کو بغداد میں وفات پا گئے۔ آپ کا علمی مقام شیعہ علمی روایت میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے

یہ کتاب ان قارئین کے لیے مناسب ہے جو واقعۂ کربلا اور امام حسین (علیہ السلام) کی شہادت کے حالات پڑھنا چاہتے ہیں۔ تاریخ اسلام اور سیرت اہل بیت (علیہم السلام) میں دلچسپی رکھنے والے افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دینی مدارس کے طلبہ، محققین، خطباء اور مجالس پڑھنے والے افراد کے لیے بھی یہ کتاب مفید ہے۔ اس کے مطالعے سے واقعۂ عاشورا کے تاریخی واقعات اور اہل بیت (علیہم السلام) کی قربانیوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔