تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات

تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات

تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات

Number of volumes :

1

Publish number :

چاپ اوّل

Publication year :

1912

Publish location :

لاہور ۔ پاکستان

(0 پسندیدگی)

QRCode

(0 پسندیدگی)

تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات

تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات جہاد کے اسلامی تصور پر ایک اہم تحقیقی کتاب ہے۔ اس کے مصنف نواب یار جنگ مولوی چراغ علی ہیں۔ کتاب میں جہاد کے مفہوم اور اسلامی جنگوں کے بارے میں تفصیلی بحث کی گئی ہے۔ یہ کتاب اصل میں انگریزی زبان میں A Critical Exposition of the Popular Jihad کے عنوان سے 1885ء میں شائع ہوئی۔ بعد میں اس کا اردو ترجمہ تحقیق الجہاد کے نام سے شائع ہوا۔ اس اردو ایڈیشن کے مترجم غلام الحسنین پانی پتی ہیں۔

کتاب کے بارے میں

اس کتاب میں جہاد کے اسلامی تصور کا تحقیقی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ مصنف نے قرآن، حدیث، فقہ اور اسلامی تاریخ سے استدلال کیا ہے۔ کتاب کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ اسلام میں جہاد کا مفہوم کیا ہے۔ اس کے ساتھ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی جنگوں کے اسباب اور حالات پر بھی گفتگو کی گئی ہے۔ کتاب میں ان اعتراضات کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے جو اسلام اور جہاد کے بارے میں مغربی مصنفین کی طرف سے پیش کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ ضمیمہ جات میں جہاد، جنگ اور غلامی جیسے موضوعات سے متعلق مزید مباحث شامل ہیں۔

اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں

اس کتاب کے مطالعے سے ہمیں درج ذیل موضوعات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے: جہاد کے مفہوم اور اس کی مختلف صورتیں۔ قرآن میں جہاد اور قتال سے متعلق مباحث۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی جنگوں کا پس منظر۔ اسلامی جنگوں کے اسباب اور مقاصد۔ اسلام اور جنگ کے بارے میں کیے جانے والے اعتراضات۔ جہاد اور دفاع کے باہمی تعلق کا مطالعہ۔ اسلامی تاریخ کو تحقیقی انداز میں دیکھنے کی کوشش۔ جہاد کے بارے میں جدید دور میں پیدا ہونے والے فکری سوالات۔ کتاب کے ضمیمہ جات بھی موضوع کو مزید سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔

اس کتاب کے مصنف کے بارے میں

نواب یار جنگ مولوی چراغ علی مولوی چراغ علی برصغیر کے معروف مسلم مفکر اور مصنف تھے۔ وہ انیسویں صدی کے مسلم فکری مباحث میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام، شریعت، جہاد اور اسلامی تاریخ جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا۔ تحقیق الجہاد ان کی معروف تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔ اس کتاب کا اصل انگریزی ایڈیشن 1885ء میں شائع ہوا تھا۔ اس کتاب کے اردو ایڈیشن میں غلام الحسنین پانی پتی نے ترجمہ کیا ہے۔ 1967ء کے ایک معروف اردو ایڈیشن کو کراچی کی نفیس اکیڈمی نے شائع کیا تھا۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے؟

یہ کتاب ان افراد کے لیے مفید ہے: جہاد کے اسلامی تصور میں دلچسپی رکھنے والے قارئین۔ قرآن اور اسلامی تاریخ کے طلبہ۔ اسلام اور جنگ کے موضوع پر تحقیق کرنے والے افراد۔ اسلامی فکر کا مطالعہ کرنے والے طلبہ۔ برصغیر کی مسلم فکری تاریخ کے محققین۔ ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبہ۔ جہاد سے متعلق جدید فکری مباحث کو سمجھنے والے قارئین۔ اسلامی موضوعات پر تحقیقی کتب پڑھنے کے شوقین افراد۔