تاریخ حریّت اسلام کے ناقابل فراموش واقعات

تاریخ حریّت اسلام کے ناقابل فراموش واقعات

تاریخ حریّت اسلام کے ناقابل فراموش واقعات

Number of volumes :

1

Publish number :

چاپ اوّل

Publication year :

2007

Publish location :

لاہور ۔ پاکستان

(0 پسندیدگی)

QRCode

(0 پسندیدگی)

تاریخ حریّت اسلام کے ناقابل فراموش واقعات

تاریخِ اسلام کے ناقابلِ فراموش واقعات محمد دین فوق کی تاریخی کتاب ہے۔ اس میں اسلامی تاریخ کے اہم واقعات بیان کیے گئے ہیں۔

کتاب کا موضوع

کتاب میں اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس میں حریت، شجاعت، استقامت اور قربانی کے واقعات بھی شامل ہیں۔ تاریخی واقعات کتاب میں عہدِ رسالت، خلافت، بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار کا ذکر ملتا ہے۔ مختلف اسلامی سلطنتوں کے اہم واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں۔ مختلف اسلامی ادوار مصنف نے دولتِ بنی بویہ، دولتِ عثمانیہ اور ہسپانیہ کے واقعات شامل کیے ہیں۔ دولتِ ایوبیہ، الجزائر و مراکش اور غزنوی دور کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ برصغیر اور دیگر خطے کتاب میں مغلیہ دور، ایران و افغانستان اور کشمیر سے متعلق تاریخی واقعات بھی شامل ہیں۔ اس سے قاری کو اسلامی تاریخ کے مختلف علاقوں سے واقفیت حاصل ہوتی ہے۔

اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں؟

اس کتاب کے مطالعے سے اسلامی تاریخ کے اہم واقعات کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ قاری مختلف ادوار کے حالات اور اہم شخصیات سے واقف ہوتا ہے۔ شجاعت اور استقامت کتاب میں شجاعت، حریت اور استقامت کے متعدد واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ یہ واقعات قاری کو ماضی سے سبق حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ تاریخی مطالعے کی اہمیت تاریخ کے مطالعے سے ہمیں ماضی کے حالات سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ہم گزشتہ قوموں اور شخصیات کے تجربات سے بھی سبق حاصل کر سکتے ہیں۔

مصنف محمد دین فوق

محمد دین فوق اردو کے معروف مورخ، صحافی، شاعر اور سوانح نگار تھے۔ ان کا اصل نام محمد دین ڈار تھا۔ محمد دین فوق کی خدمات محمد دین فوق نے تاریخ اور صحافت کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ وہ خاص طور پر کشمیر کی تاریخ اور معاشرت پر اپنی تحریروں کے لیے معروف ہوئے۔ معروف تصانیف ان کی معروف کتابوں میں تاریخِ کشمیر، تاریخِ اقوامِ کشمیر، مشاہیرِ کشمیر، خواتینِ کشمیر، کشمیر کی رانیاں اور تاریخِ بڈشاہی شامل ہیں۔

یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے؟

یہ کتاب تاریخِ اسلام میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے مناسب ہے۔ طلبہ بھی اس کتاب سے اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کا عمومی تعارف حاصل کر سکتے ہیں۔ تاریخی واقعات، اسلامی تہذیب اور مسلم حکمرانوں کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے قارئین بھی اس کتاب سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔