دین حق(ترجمہ المراجعات)
دین حق (ترجمہ المراجعات) علمِ کلام اور اسلامی عقائد سے متعلق ایک اہم کتاب ہے۔ اس کے مؤلف سید عبدالحسین شرف الدین موسوی لبنانی ہیں۔ کتاب کا اردو ترجمہ سید محمد باقر نقوی کھجوی نے کیا ہے۔
یہ کتاب اسلامی عقائد اور امامت کے موضوع پر گفتگو پیش کرتی ہے۔ اس میں دلائل اور علمی استدلال کو اہمیت دی گئی ہے۔ کتاب کا انداز سوال و جواب اور خط و کتابت پر مبنی ہے۔
کتاب کے بارے میں
یہ کتاب اصل میں
المراجعات کے نام سے معروف ہے۔ اس میں سید عبدالحسین شرف الدین موسوی لبنانی اور شیخ سلیم البشری کے درمیان علمی مراسلات پیش کیے گئے ہیں۔ شیخ سلیم البشری جامعۃ الازہر کے عالم تھے۔
ان مراسلات میں امامت اور خلافت جیسے اہم موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔ قرآن اور احادیث سے متعلق دلائل بھی پیش کیے گئے ہیں۔ کتاب میں شیعہ نقطۂ نظر کی وضاحت کی گئی ہے۔
یہ اردو ترجمہ اردو داں قارئین کے لیے اہم ہے۔ اس کے ذریعے وہ المراجعات کے علمی مباحث کو اردو میں پڑھ سکتے ہیں۔ اس ایڈیشن کے 429 صفحات ہیں۔
اس کتاب میں ہم کیا سیکھتے ہیں؟
اس کتاب سے ہمیں اسلامی عقائد کے مختلف مباحث سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ خاص طور پر امامت اور خلافت کے موضوع پر غور کرنے کا موقع ملتا ہے۔
ہم قرآن اور حدیث سے استدلال کے طریقے سے واقف ہوتے ہیں۔ علمی گفتگو میں دلیل کی اہمیت بھی سمجھ میں آتی ہے۔
کتاب میں مختلف سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ ان سوالات کے جوابات دلائل کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ اس سے علمی مکالمے کے انداز کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔
کتاب ہمیں اختلافی موضوعات پر مطالعہ کرنے کا ایک علمی طریقہ بھی دکھاتی ہے۔ اس میں گفتگو اور استدلال کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
اس کتاب کے مصنف کے بارے میں — سید شرف الدین موسوی لبنانی
سید
عبدالحسین شرف الدین موسوی لبنانی معروف شیعہ عالم اور صاحبِ قلم شخصیت تھے۔ آپ جبل عامل سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ نے اسلامی عقائد اور مذہبی مباحث پر متعدد علمی کتابیں تحریر کیں۔
آپ کی علمی خدمات میں المراجعات کو خاص مقام حاصل ہے۔ اس کتاب میں امامت اور اسلامی عقائد سے متعلق مباحث کو علمی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ آپ کی دوسری معروف تصانیف میں النص والاجتهاد، أبو هریرة، الكلمة الغراء في تفضيل الزهراء اور دیگر کتب شامل ہیں۔
سید شرف الدین موسوی نے علمی گفتگو اور استدلال کو اپنی تحریروں میں اہم مقام دیا۔ ان کی تصانیف شیعہ عقائد اور اسلامی تاریخ کے مطالعے میں معروف ہیں۔
یہ کتاب کن افراد کے لیے مناسب ہے؟
یہ کتاب علمِ کلام سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے مفید ہے۔ دینی علوم کے طلبہ بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
شیعہ عقائد کا علمی مطالعہ کرنے والوں کے لیے یہ کتاب خاص اہمیت رکھتی ہے۔ امامت اور خلافت کے موضوع پر تحقیق کرنے والے افراد بھی اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔
اسلامی مناظرات اور مذہبی مکالمے میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے لیے بھی یہ کتاب مفید ہے۔ محققین اور طلبہ کے لیے یہ ایک قابلِ مطالعہ کتاب ہے۔
یہ کتاب خاص طور پر ان قارئین کے لیے مناسب ہے جو المراجعات کے مباحث کو اردو زبان میں پڑھنا چاہتے ہیں۔